Click here for live Coverage
 
Download Quran Quiz
 
Download Quran in Adobe Reader
 
 

قرآن مرکز کے قیام کا مقصد مسلمانوں کو متفقہ اساس یعنیٰ قرآن پر اکٹھا کرنا ہے، تاہم یہ بات ملحوظ رہے کہ قرآن کی وہی تفہیم اور تشریح قابل قبول ہے ، جو رسول اللہ کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔ ورنہ اقبال کے الفاظ میں

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
(اقبال )

  قرآن مركز  كس  چیز کی طرف بلاتا ہے  

مسلمانوں کو ہم جس چیز کی طرف بلاتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ادا کریں جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔وہ ذمہ داریاں کیا ہیں، وہ صرف یہی نہیںہیں کہ آپ نکاح ، طلاق ، وراثت وغیرہ معاملات میں اسلام کے مقرر کیے ہوئے ضابطے پرعمل کریں، بلکہ ان سب کے علاوہ ایک بڑی اور بہت بھاری ذمہ داری آپ پر یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ آپ تمام دنیا کے سامنے اس حق کے گواہ بن کر کھڑے ہوں جس پرآپ ایمان لائے ہیں۔ مسلمان کے نام سے آپ کو ایک مستقل امت بنانے کی واحد غرض جو قرآن میں بیان کی گئی ہے وہ یہی ہے کہ آپ تمام بندگان خدا پر شہادت حق کی حجت قائم کریں۔ اسی شہادت کے لیے انبیا ءعلیہم السلام دنیا میں بھیجے گئے تھے اور اس کاادا کرنا ان پر فرض تھا۔ پھر یہی شہادت تمام انبیاءکے بعد ان کی امتوں پر فرض ہوتی رہی اور اب خاتم النبیین کے بعد یہ فرض امت مسلمہ پر بحیثیت مجموعی اسی طرح عاید ہوتا ہے جس طرح حضور پر آپ کی زندگی میں شخصی حیثیت سے عاید ہوتاتھا

 

اس مقصد کےلئے:

قرآن مرکز کا بنیادی ہدف قرآن وسنت کی تعلیمات کے ذریعے عوام الناس  کی بالعموم اور مسلمانوں کی بالخصوصٓ علمی و فکری تربیت اورتزکیہ کا فریضہ انجام دینا ہے
 
طریقہ کار :

۱۔ خواتین وحضرات کی دینی تعلیم و تربیت کےلئے بڑے بڑے تربیتی پروگرامات کا انعقاد

۲۔ دینی تعلیم کے شائق حضرات کے لئے مختلف دینی کورسز کا انعقاد

۳۔ اسلام کی سرکاری زبان عربی (خصوصا قرآنی عربی) سکھانے کے لئے  کلاسز کا انعقاد

۴۔ دین کے مبلغین اور مدرسین کی تیاری کے لئے کیمپس اور تربیت گاہوں کا انعقاد
 

حق قبول کرنے والوں کے اوصاف : 

حق کو قبول کرنے والوں کے جواوصاف قرآن میں بیان ہوئے ہیں ان میں چند یہ ہیں

    • وہ ہرقسم کے گروہی تعصبات اور آبائی تقیدات سے بالکل آزاد ہوتے ہیں۔
    • وہ اندھی تقلید کی بیماری سے پاک ہوتے ہیں، دوسروں کے پیچھے چلتے ہوئے خود اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھتے ہیں۔
    • وہ حق کی کسوٹی صرف اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو مانتے ہیں۔ اشخاص کو حق و باطل کا معیار نہیں بناتے۔
    • اخلاقی اعتبار سے اپنی سوسائٹی میں نمایاں ہوتے ہیں، پست ہمت ، ضمیر فروش اور خود غرض نہیں ہوتے اور نہ باطل کا مقابلہ کرنے میں بزدل ہوتے ہیں۔
    • وقت کے نظام باطل سے ان کی وابستگی ہوتی بھی ہے تو خودغرضانہ نہیں ہوتی۔
    • وہ غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتے کہ اپنی ذات اور اپنے حلقے سے باہر نہ کسی خیر کا تصور کرسکیں اور نہ کسی کی رہنمائی قبول کرسکیں۔